Welcome to official website of PRES

Renewable Energy Projects to get enhanced financing

The State Bank of Pakistan has enhanced the scope of financing facility for the establishment of new power projects using renewable energy with a view to promoting the use of renewable energy and meeting the growing electricity demand of the country. According to a circular issued by the central bank, it has now been decided that banks/DFIs can also consider financing requests of the sponsors for setting up power projects up to a maximum capacity of 20MW in cases where only biomass/ biogas is used as a renewable energy source, keeping in view the terms and conditions of the scheme for financing power plants by using renewable energy. The country is experiencing severe energy crisis which subsequently has suspended the national growth, economic activities and industrial sectors. It may be recalled here that earlier under the scheme, which was announced by the SBP in 2009, the financing facility was allowed for the establishment of new power projects using renewable energy with a capacity of up to 10MW.

Out Sourcing Thermal Power Units Ops, Repair to Multiply Cost

The government’s plan to outsource Operations and Maintenance of its thermal units is under question by certain quarters on the ground that it would increase the cost of electricity and while WAPDA has technical capacity to overhaul these plants then why to involve private sector.

At present, the public sector owns 10 powerhouses in addition to hydel and other resources. These plants had a generation capacity of over 4800 megawatt but over the years it depleted and presently the dependable capacity falls at 3550 MW that is even not being generated due to several reasons. It is learnt that the maximum electricity generation being done by these power stations is between 1200 to 1800 MW in different times mainly due to fuel shortage to run these plants. As per details of the plants the maximum capacitated plant is Guddu that had the ability to generate 1655 MW but now its capacity is 1155 and is generation not more than 1000 MW. The second highest is Muzaffargarh Thermal that had a capacity of 1350 but now fell to 1130 MW and the generation is ranging between 300-500 MW due to fuel shortage. The Thermal Jamshoro has capacity of 850 MW but reduced to 700 MW over the years but again the generation being made is 240 MW. Same is the case with the other remaining plants. The government’s plan to outsource these plants seems not feasible as it is even unable to generate the available capacity of these units. It is also learnt that the WAPDA engineers have overhauled few units but still the generation did not increase due to non-availability of fuel. For instance, in the case of Muzaffargarh and Guddu, two and three machines were overhauled respectively those increased generation capacity by 270 MW and 120 MW respectively but power loadshedding the main hurdle. The sources said that these machines were overhauled using WAPDA technical staff and available spare parts with the organisation. They further said that WAPDA engineers’ capacity is proven this way and they can overhaul all the machines provided the spare parts are made available. Experts say that outsourcing of power plants won’t deliver rather multiply the cost of electricity for the consumers. It was revealed by the sources that WAPDA charges 0.05 paisas per unit under the head of repair and maintenance whereas Independent Power Producers (IPPs) charge 0.45 paisas per unit for the same purpose. As per a report, the government needs to spend $166 million to rehabilitate its plants that also includes extension of Guddu Power Station, which is too much for the cash-strapped government to spend. Experts are of the view that by spending this amount, the government can improve the capacity of its thermal plants up to 5500 megawatt that can subsequently reduce the power shortfall in the country. They suggest the government to opt for gradual overhaul of these plants using WAPDA resources that are comparatively cheap. The persistent gas shortage has forced management to close these power stations that include GTPS Faisalabad, NGPS Multan and GTPS Kotri having dependable capacity of 210, 60 and 140 megawatt respectively. It is also worth mentioning here that the minimum age of any plant is 20 years and there are many that have been used for more than 30 years without overhauling these plants. Experts link the present power crisis to the inaction and lethargic approach of higher authorities as they could have maintained plants one by one that could have helped to avoid burdening the financial load.

ایف او ڈی پی، ہائیڈل منصوبوں کےلئے مالی معاونت کا اعلان

اسلام آباد (ہاجرہ زیدی) پانی اور ہائیڈل منصوبوں کی تکمیل کیلئے فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان ( ایف او ڈی پی ) کی جانب سے پاکستان کو 2020ء تک اٹھائیس اعشاریہ دو ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ میڈیا تفصیلات کے مطابق ایف او ڈی پی پاکستان کی حتمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020ء تک پاکستان میں پانی اور ہائیڈل پاور منصوبوں کی تکمیل کیلئے اٹھائیس اعشاریہ دو ارب ڈالر فراہم کئے جائیں گے اور فنڈز اور تکنیکی معاونت کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے رہنمائی لی جائے گی۔

ٹاسک فورس نے گلگت بلتستان میں دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 12 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی ہے علاوہ ازیں کرم تنگی، منڈا، داسو، کوہالہ، گولن گول بنجی کے خیبر پختونخواہ فاٹا اور آزاد جموں کشمیر نے منصوبے کیلئے چودہ ارب ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔ مذکورہ منصوبوں پر تمام رکن ممالک قرضہ جاری کرنیوالے اداروں اور پاکستان میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین اتفاق رائے ہے۔ ٹاسک فورس نے ورلڈ کمیشن آف ڈیمز کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئر پگھلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر سے پانی اور بجلی دونوں مسائل حل ہو جائیں گے

متبادل توانائی ذرائع میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع

اسلام آباد ( نیوز رپورٹر) پاکستان میں توانائی کی سخت کمی ہے اور لوگ سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کمی کو متبادل توانائی ذرائع کے استعمال سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ سورج کی توانائی، گاﺅں میں بائیو گیس جبکہ سمندری علاقوں کی ہواﺅں کو پون چکیوں کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے توانائی کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ لہذا ان تمام متبادل توانائی ذرائع میں نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کے کھلے مواقع موجود ہیں بلکہ پاکستانی نجی کمپنیز بھی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرکے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ سرمایہ کاری متبادل توانائی کے ذرائع میں کی جارہی ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے خطے بالخصوص ساحلی علاقے میںموجود ہیں جہاں سال بھر تیز ہوائیں چلتی ہیں‘ اسی طرح سورج کی روشنی بھی موجود ہے۔ جن کے سبب پون چکی یا شمسی توانائی کا استعمال طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے اور مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قابل تجدید توانائی کے استعمال کے فروغ اور ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے قابل تجدید توانائی استعمال کرنے والے نئے بجلی گھروں کے قیام کے لئے مالکاری کی سہولت میں توسیع کردی ہے۔اسٹیٹ بینک کے آئی ایچ اینڈ ایس ایم ای ایف ڈی سرکلر لیٹر نمبر 1 مورخہ 18 جنوری،2012ء کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ترقیاتی مالیاتی ادارے قابل تجدید توانائی استعمال کرنے والے بجلی گھروں کی مالکاری کی اسکیم کی شرائط و ضوابط کے پیش نظر بائیو ماس/ بائیو گیس کو قابل تجدید توانائی کے طور پر استعمال کرنے والے زیادہ سے زیادہ 20 میگا واٹ کی گنجائش کے بجلی گھروں کے قیام کے لئے اسپانسرز کی مالکاری کی درخواستوں پر بھی غور کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے اسکیم کے تحت جس کا اعلان اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے ایس ایم ای ایف ڈی سرکلر نمبر 19 مورخہ یکم دسمبر، 2009ء کے ذریعے کیا تھا، قابل تجدید توانائی استعمال کرنے والے 10 میگا واٹ تک کی گنجائش کے نئے بجلی گھروں کے قیام کے لئے مالکاری کی سہولت کی اجازت تھی۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی ان سہولیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار نہ صرف توانائی کے شعبے سے خاطرخواہ منافع کماسکتے ہیں بلکہ اس طرح بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق متبادل توانائی کے ذرائع سے ہی سستی بجلی پیدا کرکے ملک کو توانائی کے بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔ متبادل اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے موزوں ترین ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ توانائی کا شعبہ ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ملکی صنعت و حرفت کا دارومدار توانائی کی ارزاں اور مستقل فراہمی میں ہوتا ہے جس کے سبب توانائی کے بحران پر قابوپانا انتہائی ضروری ہے، لہذا اس شعبے میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا میں متعدد ممالک کوڑے کے ذریعے بجلی اور گیس حاصل کر رہے ہیں، ان میں جاپان، چین، امریکہ، برطانیہ، اسپین، ترکی، نیروبی، سویڈن، یونان اور بھارت کے علاوہ دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی روزآنہ اکھٹا ہونے والے ہزاروں ٹن کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں، یوں بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے اور ماحول بھی صاف ستھرا ہو جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں فی گھر روزآنہ اوسطً تین کلو جبکہ ملک میں کل تقریبا پچپن ہزار ٹن کوڑا پیدا ہوتا ہے جس سے ایک لاکھ میگاواٹ سے زائدبجلی اور پنتالیس لاکھ کے قریب ایتھنول فیول کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک ٹن کوڑے سے دو میگاواٹ بجلی اورتراسی لیٹر ایتھنول فیول پیدا ہوتا ہے۔ کوڑے سے بجلی اور ایندھن حاصل کرنے کی بدولت پاکستان نو لاکھ ڈالر سالانہ کی بچت کر سکتا ہے جو وہ خام تیل کی درآمد پر خرچ کرتاہے۔ ہمارا پڑوسی ممالک بھارت کوڑے سے سترہ عشاریہ چھ میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔

Pakistan can produce 346,000MW solar power

There is 346,000 MW potential of wind energy in Pakistan while 2.9 million MW could be produced through tapping solar energy. “The best alternative to bridge the growing gap between supply and demand in electricity is to invest in alternate energy sources such as wind and solar,” said Arif Allauddin, Chief Executive Officer of Alternate Energy Development Board, at FoDP workshop on institutional capacity building held in Turkey last week. He focused his energy sector presentation on the need to provide energy to 60 million Pakistanis who do not have access to power and 135 million people that are slipping down the ladder for their heating and cooking needs. He said that the AEDB acts as ‘One Window’ for assistance to all investors, service providers, importers and manufacturers. The Government of Pakistan has set a target of generating 1500 MW through wind energy by 2013, he saidÊÊadding that in the solar energy sector, 5 projects of 114 MW have been initiated in the private sector and over 8000 homes in 80 villages have been electrified. The AEDB chief shared data of potential small hydropower projects that are cost effective and environment friendly.

تھرکول گیس سے بجلی کا حصول جلد ممکن

اسلام آباد۔ تھر کے ریگستان میں موجود اربوں ٹن کوئلے سے گیس پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ تھرکول گیس سے جلد ہی بجلی بنانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔کوئلے سے گیس کے حصول کے بعدملک میں جاری توانائی کے شدید بحران ککے حل ہونے کی امید کی کرن جاگ اٹھی ہے۔ انڈرگراﺅنڈ گیس فکیشن منصوبہ کوئلے سے گیس بنانے کا دنیاکا سب سے بڑامنصوبہ ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو منصوبے کا کمپیوٹرائزڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سے چلائے گا۔ اس بات کو تھر بلوک بائیو میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مندکے پروجیکٹ منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شبیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے کہا۔ انھوں نے بتایا کہ گیس سے بجلی بنانے کے منصوبے میں متعدد گروپس دلچسپی لے رہے ہیں تاہم سندھ حکومت نے منظم طریقے سے سرمایہ کاری کے لئے تھر یو جی سی کمپنی قائم کر دی ہے۔ تھرکول دنیا کا تیسرا بڑا کوئلے کا ذخیرہ ہے، بدقسمتی سے آج تک اس سے ایک کلو بھی کوئلہ نہیں نکالا گیا۔ ان کے مطابق تھر کول بلاک فائیو میں ایک اعشاریہ چار ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں جن سے تیس سال تک دس ہزار میگاواٹ بجلی اور سالانہ سو ملین بیرل ڈیزل پیدا کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ۳۱۰۲ءکے آخر یا ۴۱۰۲ءکے آغاز تک ہم ۰۵ ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع کر دیں گے۔تھر کول کا ذخیرہ ایک بہت بڑا خزانہ ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان بجلی اور گیس دونوں ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔

جناح ہائیڈرو منصوبہ سے بجلی کی پیداوار کا آغاز

لاہور (نیوز رپورٹر) جناح ہائیڈرو پاورمنصوبے کے پہلے یونٹ نے آزمائشی طور پر بجلی کی پیداوار کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اوّلین یونٹ کا یہ آزمائشی مرحلہ ۵۱ روز تک جاری رہے گا۔ جناح ہائیڈرو پاور ۶۹ میگاواٹ مجموعی پیداواری صلاحیت کا حامل ہے اور یہ منصوبہ دریائے سندھ پر جناح بیراج کے قریب ضلع میانوالی میں تعمیر کیا گیا ہے۔ منصوبے کی مجموعی تکمیل رواں سال کے وسط تک متوقع ہے۔   جناھ ہائیڈرو پاور منصوبہ سے سالانہ فوائد کا تخمینہ تقریباً ۶ ارب روپے ہے۔ جناح ہائیڈرو پاور پروجیکٹ واپڈا کے ترجیحی بنیاد پر زیرعمل کم لاگت بجلی پیدا کرنے کے پروگرام کا حصہ ہے اورمنصوبہ اپنی تکمیل پر سالانہ ۸۶ کروڑ ۰۸ لاکھ یونٹ کم لاگت پن بجلی پیدا کرے گا۔ پروگرام کا مقصد قومی نظام میں پن بجلی کے تناسب کو بہتر بنانا ہے تاکہ صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں استحکام لایا جاسکے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت بجلی کے پیداواری نظام میں پن بجلی کا تناسب ۲۳ فیصد ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پن بجلی کااوسط نرخ ایک روپیہ ۴۵ پیسے فی یونٹ ہے جبکہ تمام ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کا اوسط مجموعی نرخ تقریباً ۹ روپے فی یونٹ ہے۔

بائیو گیس متبادل توانائی کا سستا ترین ذریعہ

ملک میں توانائی (بجلی، ڈیزل اور گیس) کے حالیہ بحران کے خاتمہ کےلئے حکومت پنجاب نے ۴۷ ملین روپے کی لاگت سے صوبہ میں ۰۰۵۱ فیملی سائز بائیو گیس پلانٹس کی تنصیب کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے لئے کئی درخواستیں بھی موصول ہو چکی ہیں۔ فیملی سائز بائیو گیس پلانٹ سے ۵ کیوبک میٹر گیس روزانہ پیدا ہو گی جس سے ۸ سے ۰۱ افراد پر مشتمل گھرانے کی توانائی بالخصوص گیس اور بجلی کی ضروریات باآسانی پوری ہو سکیں گی۔ حکومت پنجاب ہر بائیو گیس پلانٹ کی تنصیب کےلئے قرعہ اندازی میں کامیاب کاشتکاروں کو ۰۵ ہزار روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ ملتان میں بائیو گیس کی کمرشل پیمانے پر کامیابی کے بعد کاشتکاروں میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ نیو سبزی منڈی ملتان کے عقب میں نو بہار نہر کے کنارے تنصیب شدہ بائیو گیس پلانٹ سے ۵۳ ہارس پاور پیٹر انجن کے ذریعے ۶ انچ کی بڑی ٹربائن، ٹریکٹر، گھریلو اور کمرشل ہوٹلوںکے تندور اور چولہے اور ڈینمو موٹر کے ذریعے ٹربائن، ٹریکٹر، چکی آٹا مشین اور آرا مشین کو کامیابی سے چلانے کا عملی نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس بائیو گیس پلانٹ میں مکسنگ مشین کے ذریعے مختلف بیکٹیریا گوبر کو تحلیل کر کے بائیو گیس تیار کی جاتی ہے ۔ بائیو گیس متبادل توانائی کا سستا ترین ذریعہ ہے جس سے دیہی عوام خصوصاً کاشتکار مہنگی بجلی، ڈیزل اور گیس سے مستقل بنیادوں پر چھٹکارا حاصل کر سکیں گے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ ۰۲ سے ۵۲ جانوروں کے گوبر سے حاصل شدہ بائیو گیس کی مدد سے بڑی ٹربائن ۴۲ گھنٹے روزانہ کامیابی سے چلائی جا سکتی ہے۔ جدید فلٹرز اور پلانٹ کے ذریعے بائیو گیس کو کمپریسنگ کے ذریعے سی بی جی میں تبدیل کر کے موٹر سائیکل اور رکشہ بھی چلائے جائیں گے۔ لیبارٹری کے نتائج کے مطابق اس بائیو گیس پلانٹ سے تحلیل شدہ فضلہ میں نائٹروجنی کھاد کے علاوہ فاسفورسی، پوٹاش اور دوسرے اجزائے صغیرہ بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔ اس بائیو کھاد کے استعمال سے نہ صرف کیمیائی کھادوں کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ گندم، کپاس، سبزیات اور نرسریوں کی اچھی بڑھوتری سے فی ایکڑ زیادہ پیداوار بھی حاصل ہو گی۔ دیہی علاقوںمیں بائیو گیس پلانٹس کی تنصیب سے زرعی ترقی کے علاوہ جانوروں کی افزائش نسل میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ مرغیوں کی بیٹ، فصلوں کی باقیات اور انسانی فضلہ سے بھی بائیو گیس کے حصول کے کا میاب تجربات کیے گئے ہیں۔ دیہاتوں میں بائیو گیس کے فروغ سے درختوں اور مختلف فصلوں کی چھڑیوں کو جلانے میں نمایاں کمی سے ماحول کی آلودگی کے خاتمہ میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ مزید برآں ان باقیات کو زمین میں ملانے سے زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ ہو گا۔

Solar energy can cater to Pak power needs

Pakistan can generate thousands of megawatts electricity by using its vast but still untapped sources of solar, hydro, hydroelectric, wind and waste energy scattered across the country. “If tapped only 0.08 per cent of the solar energy reserves in Balochistan can cater to energy needs of the entire country,” Awais Khan, President and Chief Executive of American Pakistan Foundation (APF), said this while referring to a recent study. He mentioned that said multilateral finders like World Bank and International Finance Corporation (IFC) were present in the country to fund mega energy projects but, unfortunately, 99.9 per cent of the local institutions are falling short of meeting the “broader criterion” set for getting funding from these multinational organizations. According to him, the institutional capacity building, bringing domestic work standards at par with that of international ones and experienced and skilled managers are the three prerequisites. The risk-averse banks, he said, could bridge this financial gap through extending more advances to the private individual and institutional borrowers willing to install the sophisticated energy generating equipment.

REpower wins 20MW order for RWE wind farm in England

The Germany-based manufacturer will deliver 10 of its MM82 machines to the Bradwell Wind Farm being developed by RWE Npower Renewables in Essex, southern England.

Delivery and installation is due in the second half of 2012, with the project expected to be complete by the end of the year.

The new order means REpower has supplied 70MW to RWE in the UK.