Welcome

Welcome to official website of PRES

متبادل توانائی ذرائع میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع

اسلام آباد ( نیوز رپورٹر) پاکستان میں توانائی کی سخت کمی ہے اور لوگ سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کمی کو متبادل توانائی ذرائع کے استعمال سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ سورج کی توانائی، گاﺅں میں بائیو گیس جبکہ سمندری علاقوں کی ہواﺅں کو پون چکیوں کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے توانائی کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ لہذا ان تمام متبادل توانائی ذرائع میں نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کے کھلے مواقع موجود ہیں بلکہ پاکستانی نجی کمپنیز بھی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرکے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ سرمایہ کاری متبادل توانائی کے ذرائع میں کی جارہی ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے خطے بالخصوص ساحلی علاقے میںموجود ہیں جہاں سال بھر تیز ہوائیں چلتی ہیں‘ اسی طرح سورج کی روشنی بھی موجود ہے۔ جن کے سبب پون چکی یا شمسی توانائی کا استعمال طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے اور مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قابل تجدید توانائی کے استعمال کے فروغ اور ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے قابل تجدید توانائی استعمال کرنے والے نئے بجلی گھروں کے قیام کے لئے مالکاری کی سہولت میں توسیع کردی ہے۔اسٹیٹ بینک کے آئی ایچ اینڈ ایس ایم ای ایف ڈی سرکلر لیٹر نمبر 1 مورخہ 18 جنوری،2012ء کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ترقیاتی مالیاتی ادارے قابل تجدید توانائی استعمال کرنے والے بجلی گھروں کی مالکاری کی اسکیم کی شرائط و ضوابط کے پیش نظر بائیو ماس/ بائیو گیس کو قابل تجدید توانائی کے طور پر استعمال کرنے والے زیادہ سے زیادہ 20 میگا واٹ کی گنجائش کے بجلی گھروں کے قیام کے لئے اسپانسرز کی مالکاری کی درخواستوں پر بھی غور کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے اسکیم کے تحت جس کا اعلان اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے ایس ایم ای ایف ڈی سرکلر نمبر 19 مورخہ یکم دسمبر، 2009ء کے ذریعے کیا تھا، قابل تجدید توانائی استعمال کرنے والے 10 میگا واٹ تک کی گنجائش کے نئے بجلی گھروں کے قیام کے لئے مالکاری کی سہولت کی اجازت تھی۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی ان سہولیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار نہ صرف توانائی کے شعبے سے خاطرخواہ منافع کماسکتے ہیں بلکہ اس طرح بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق متبادل توانائی کے ذرائع سے ہی سستی بجلی پیدا کرکے ملک کو توانائی کے بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔ متبادل اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے موزوں ترین ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ توانائی کا شعبہ ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ملکی صنعت و حرفت کا دارومدار توانائی کی ارزاں اور مستقل فراہمی میں ہوتا ہے جس کے سبب توانائی کے بحران پر قابوپانا انتہائی ضروری ہے، لہذا اس شعبے میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا میں متعدد ممالک کوڑے کے ذریعے بجلی اور گیس حاصل کر رہے ہیں، ان میں جاپان، چین، امریکہ، برطانیہ، اسپین، ترکی، نیروبی، سویڈن، یونان اور بھارت کے علاوہ دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی روزآنہ اکھٹا ہونے والے ہزاروں ٹن کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں، یوں بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے اور ماحول بھی صاف ستھرا ہو جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں فی گھر روزآنہ اوسطً تین کلو جبکہ ملک میں کل تقریبا پچپن ہزار ٹن کوڑا پیدا ہوتا ہے جس سے ایک لاکھ میگاواٹ سے زائدبجلی اور پنتالیس لاکھ کے قریب ایتھنول فیول کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک ٹن کوڑے سے دو میگاواٹ بجلی اورتراسی لیٹر ایتھنول فیول پیدا ہوتا ہے۔ کوڑے سے بجلی اور ایندھن حاصل کرنے کی بدولت پاکستان نو لاکھ ڈالر سالانہ کی بچت کر سکتا ہے جو وہ خام تیل کی درآمد پر خرچ کرتاہے۔ ہمارا پڑوسی ممالک بھارت کوڑے سے سترہ عشاریہ چھ میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔

Comments are closed.