Welcome

Welcome to official website of PRES

بائیو گیس متبادل توانائی کا سستا ترین ذریعہ

ملک میں توانائی (بجلی، ڈیزل اور گیس) کے حالیہ بحران کے خاتمہ کےلئے حکومت پنجاب نے ۴۷ ملین روپے کی لاگت سے صوبہ میں ۰۰۵۱ فیملی سائز بائیو گیس پلانٹس کی تنصیب کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے لئے کئی درخواستیں بھی موصول ہو چکی ہیں۔ فیملی سائز بائیو گیس پلانٹ سے ۵ کیوبک میٹر گیس روزانہ پیدا ہو گی جس سے ۸ سے ۰۱ افراد پر مشتمل گھرانے کی توانائی بالخصوص گیس اور بجلی کی ضروریات باآسانی پوری ہو سکیں گی۔ حکومت پنجاب ہر بائیو گیس پلانٹ کی تنصیب کےلئے قرعہ اندازی میں کامیاب کاشتکاروں کو ۰۵ ہزار روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ ملتان میں بائیو گیس کی کمرشل پیمانے پر کامیابی کے بعد کاشتکاروں میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ نیو سبزی منڈی ملتان کے عقب میں نو بہار نہر کے کنارے تنصیب شدہ بائیو گیس پلانٹ سے ۵۳ ہارس پاور پیٹر انجن کے ذریعے ۶ انچ کی بڑی ٹربائن، ٹریکٹر، گھریلو اور کمرشل ہوٹلوںکے تندور اور چولہے اور ڈینمو موٹر کے ذریعے ٹربائن، ٹریکٹر، چکی آٹا مشین اور آرا مشین کو کامیابی سے چلانے کا عملی نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس بائیو گیس پلانٹ میں مکسنگ مشین کے ذریعے مختلف بیکٹیریا گوبر کو تحلیل کر کے بائیو گیس تیار کی جاتی ہے ۔ بائیو گیس متبادل توانائی کا سستا ترین ذریعہ ہے جس سے دیہی عوام خصوصاً کاشتکار مہنگی بجلی، ڈیزل اور گیس سے مستقل بنیادوں پر چھٹکارا حاصل کر سکیں گے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ ۰۲ سے ۵۲ جانوروں کے گوبر سے حاصل شدہ بائیو گیس کی مدد سے بڑی ٹربائن ۴۲ گھنٹے روزانہ کامیابی سے چلائی جا سکتی ہے۔ جدید فلٹرز اور پلانٹ کے ذریعے بائیو گیس کو کمپریسنگ کے ذریعے سی بی جی میں تبدیل کر کے موٹر سائیکل اور رکشہ بھی چلائے جائیں گے۔ لیبارٹری کے نتائج کے مطابق اس بائیو گیس پلانٹ سے تحلیل شدہ فضلہ میں نائٹروجنی کھاد کے علاوہ فاسفورسی، پوٹاش اور دوسرے اجزائے صغیرہ بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔ اس بائیو کھاد کے استعمال سے نہ صرف کیمیائی کھادوں کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ گندم، کپاس، سبزیات اور نرسریوں کی اچھی بڑھوتری سے فی ایکڑ زیادہ پیداوار بھی حاصل ہو گی۔ دیہی علاقوںمیں بائیو گیس پلانٹس کی تنصیب سے زرعی ترقی کے علاوہ جانوروں کی افزائش نسل میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ مرغیوں کی بیٹ، فصلوں کی باقیات اور انسانی فضلہ سے بھی بائیو گیس کے حصول کے کا میاب تجربات کیے گئے ہیں۔ دیہاتوں میں بائیو گیس کے فروغ سے درختوں اور مختلف فصلوں کی چھڑیوں کو جلانے میں نمایاں کمی سے ماحول کی آلودگی کے خاتمہ میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ مزید برآں ان باقیات کو زمین میں ملانے سے زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ ہو گا۔

Comments are closed.