Welcome

Welcome to official website of PRES

توانائی کے ذرائع اور موجودہ صورتحال

اگرروزمرہ زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو سب سے زیادہ اہمیت کی حامل بجلی ہے۔ ہماری روزمرہ استعمال کی تمام تر اشیاءکا انحصار بجلی پر ہے اگر بجلی نہ ہوتو ہر چیز منجمد ہو کررہ جائے۔ بجلی کی کہانی پر نظر دوڑائی جائے تو یہ کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے اس کا آغاز سترھویں صدی میں ایک جرمن سائنسدان کے ہاتھوں ہوا اور پھر مختلف مراحل طے کرنے کے بعدپہلا بجلی گھر1879ء میں امریکہ میں تعمیر ہوا جس کے بعد مختلف مقامات پر اس کی تنصیب کا آغاز کیا گیا۔بجلی کو اکثر و بیشتر توانائی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اوردنیا میں اس کے حصول کے کئی طریقے اپنائے جاچکے ہیں۔ جن میں پن بجلی (ہائیڈرو پاور)، تھرمل بجلی (فوسل)، ایٹمی بجلی، شمسی توانائی، سمندر کی توانائی (ٹائیڈل انرجی) اور ہوا کی توانائی (ونڈ انرجی) قابل ذکر ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت تقریبًا 19000 میگاواٹ ہے، جو کہ توانائی کے متعدد ذرائع جن میں شمسی، ایٹمی، ہوا، تیل ، کوئلہ اور گیس شامل ہیں سے حاصل کی جاتی ہے۔پاکستان پن بجلی سے تقریبًا 6500 میگا واٹ بجلی حاصل کرتا ہے۔ پن بجلی کے منصوبے چونکہ کثیر المقاصد ہوتے ہیں لہذا اس پر بڑی مقدار میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے یہ منصوبے حالیہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے موئثر نہیں تاہم متبادل ذرائع سے بجلی کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔پاکستان جن منصوبوں سے پن بجلی حاصل کرتا ہے ان میں غازی بھروتھا ڈیم، منگلا ڈیم، تربیلا یم، چشمہ ڈیم، رسول ڈیم، مالاکنڈ ڈیم، درگئی ڈیم، باری پور ڈیم، شادی وال ڈیم، چیہوکی ڈیم، رینالا ڈیم، چترال ڈیم، کرم گڑی ڈیم اور جگران ڈیم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر منصوبے زیر تکمیل ہیں جو جلد ہی مکمل ہو جائیں گے۔ ہمارا ملک توانائی کی ضروریات کا دوسرا بڑا حصہ تھرمل بجلی سے حاصل کرتا ہے، جس میں ایندھن (تیل و گیس) سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ تیل و گیس سے حاصل کردہ بجلی پن بجلی کے مقابلے میں نسبتًا مہنگی ہوتی ہے لیکن توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تھرمل بجلی کا سہارا لیا گیا۔ کیونکہ یہ منصوبے توانائی کے بحران کے پیش نظر شروع کیئے گئے ہیں اس لیئے ملکی حالات کی بہتری کا مضبوط اشارہ ملتے ہی ان منصوبوں سے بجلی کی پیداواربند کر دی جائے گی۔ پاکستان تھرمل بجلی سے تقریبًا 2800 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔ ملک میں اس وقت جو پاور پلانٹ بجلی فراہم کررہے ہیں اُن میں کیپکو، حب پاور کمپنی، بن قاسم پاور پلانٹ، جامشورو پاور کمپنی، گڈو تھرمل اسٹیشن، لال پیرا اور پکجن تھرمل اسٹیشن، اچھ پاور پلانٹ، روش پاور پلانٹ اور ٹی این بی لبرٹی پاور پلانٹ شامل ہیں۔ کوئلہ بھی بجلی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان میں کوئلہ کے وافر ذخائر تھر کے مقام پر موجود ہیں جو دُنیا کے بڑے ترین ذخائر میں سے ایک ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہم کوئلے سے مسلسل 40 سال تک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ تھر کے مقام پر کوئلہ ریت اور پانی کی تہہ تلے موجود ہے اور اس کو زمین کی تہہ سے نکالنے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے۔ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا تھر میں موجود کوئلے کے ذخیرے سے متعلق کہنا ہے کہ اس کوئلے کو زمین سے نکالنے کا عمل کافی مشکل ہے، لیکن پھر بھی اس سے وافر فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ اُن کے مطابق اگر کوئلے کی تہہ تک ایک پائپ کے زریعے مخصوص درجہ حرارت کی گرم ہوا بھیجی جائے تو کوئلہ گیس کی شکل میں آجائے گا اور کچھ فاصلے پر ایک دوسرے پائپ کے زریعے یہ گیس زمین سے خارج ہو گی۔ اس گیس کو کول گیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس طرح ہم کوئلے کو زمین سے نکالے بغیر اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر اس گیس کو ریفائن کردیا جائے تو یہ گاڑیوں مین سی این جی کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس طرح ملک میں نہ صرف گیس کے بحران پر بھی قابو پایا جاسکے گا بلکہ وافر مقدار میں توانائی کا حصول بھی ممکن ہو سکے گا۔ اگرچہ مالی مشکلات کے باعث اس منصوبے کے آغاز میں تاخیر ہورہی ہے مگر اس کے باوجود دُنیا کی متعدد کمپنیاں اس پر سرمایہ کاری کے لیئے تیار ہیں جن پر سوچ بچار جاری ہے۔ یقینًا اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیاتو ہمارے ملک میںتوانائی کے بحران پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی۔ دُنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی کوڑے سے توانائی کے حصول پر توجہ دینی شروع کر دی ہے اور ملک میں اپنی نوعیت کا پہلاپاور پانٹ تعمیر کیا ہے۔ یہ پلانٹ چکوال کے علاقے میں ایک کارخانے میں نصب کیا گیا ہے جس کے فضلے سے تقریباً 10 میگاواٹ توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ اس طرح کے کئی اور منصوبوں پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ ہوا سے توانائی کا حصول ایک سستا اور عمدہ زریعہ ہے ایک سروے کے مطابق 1996ء میں دُنیا میں ہوا سے بجلی کی پیداوار 6.1 گیگا واٹ تھی اور 2010ء میں یہ بڑھ کر194.4گیگاواٹ ہوگئی۔ پاکستان میں بھی ہوا سے بجلی کی پیداوار کا ایک منصوبہ کام کررہا ہے جو جام پیرٹھٹھہ کے علاقے میں نصب ہے۔ جس سے 6 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے اوراس منصوبے کو 250 میگاواٹ تک وسیع کیاجاسکتا ہے۔ پاکستان دُنیا کے ایسے خطے میں واقع ہے جہاںتقریبًا سارا سال ہی سورج اپنی آب و تاب سے چمکتاہے اور یہاںشمسی توانائی کاحصول کافی حد تک آسان ہے۔ لہذا شمسی توانائی کے منصوبے توانائی کی کمی کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ متعدد افراد اپنی ضروریات کے مطابق مختصر پیمانے پرشمسی توانائی سے بجلی حاصل کر رہے ہیں۔ چونکہ یہ ایک سرمایہ طلب منصوبہ ہے اور اس کی تنصیب پر کافی سرمایہ درکار ہوتا ہے اس لیئے لوگ اس کو استعمال کرنے سے گریزاں ہیں۔ لیکن اگرایک مرتبہ اس کو لگا دیا جائے توہمیں سستی بجلی میسر آسکتی ہے۔ پاکستان دُنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے لہذا ہماری سرحدوں کادفاع ناقابل ِتسخیرہوچکا ہے۔ لیکن پاکستان نے اس کامثبت استعمال کیا اور چین کی مدد سے ملک میں ایٹمی بجلی گھر تعمیر کیئے جن سے توانائی کی ضروریات کا کچھ حصہ پورا ہوتا ہے۔ موجودہ وقت میں چشمہ کے مقام پر دو ایٹمی بجلی گھر کام کر رہے ہیں جن سے تقرےبًا 600 میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ یہ بجلی باقی طریقوں سے نسبتًا سستی پڑتی ہے اور معیشت کے لیئے ایک سہارا ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات میں تین گُنا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیئے توانائی کے حصول پر اس طرح کام نہیں کیا گیا جس طرح کیا جانا چاہئیے تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی مفادات کو بالائے تاک رکھتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی کےلئے کوشاں رہیں اور توانائی کے حصول کے لیئے مختلف منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ عوام کی مشکلات کا سدِباب ہوسکے

Comments are closed.